What will be the future of young children?

نوجوان بچوں کا مستقبل کیسا ہو گا؟

ہماری آج کی نوزائیدہ نوجوان نسل کو بہت بری راہ پر ڈال دیا گیا ہے۔جس میں استاد، والدین اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ برابر کی شریک ہے جس کے نتائج آئندہ آنے والے دنوں میں بہت ہی خوفناک اور لرزہ خیز ثابت ھوں گے۔۔۔
میرے خیال میں تو صرف تین یا چار سال پیچھے چلے جائیں تو ان میں وہ سٹوڈینٹس جن کو نا لائق اور نکما سمجھا جاتا تھا وہ بھی امتحان کے ڈر سے کتابیں کھول لیا کرتے تھے لیکن آج “مار نہیں پیار” اور 6th سے لے کر 8th تک کے ہر بچے کو پاس کرنے والی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے خاص کر سرکاری اداروں کے بچے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں۔
ایسا نہیں کہ میں مار کے حق میں ہوں لیکن ہمارے علاقے کی گراؤنڈ ریئیلیٹیز کا یہ تقاضہ ہے کہ کم از کم بچوں کو کچھ تو سزا جزا کا خوف ہو۔۔۔

Our young generation of today has been put on a very bad path. In which teachers, parents and the education department are equally involved, the results of which will be very frightening and shocking in the days to come. I think if we go back only three or four years, even those students who were considered unworthy and useless used to open their books for fear of exams, but today “don’t kill love” and from 6th to 8th Due to government policies that pass every child up to, especially the children of government institutions are getting out of hand. It is not that I am in favour of killing, but the ground realities of our area demand that at least some children should be afraid of punishment.


پہلے سزا ختم کی اور اب بچے کو صرف ڈانٹ تک نہیں سکتے تو پھر دوسروں کے لیے کون پاگل اپنی نوکری اور عزت کو داؤ پر لگائے گا اور رہی سہی کسر اس پالیسی نے ختم کر دی کہ سرکاری اداروں والے کسی بچے کو امتحان میں فیل نہیں کر سکتے چاہے وہ کتنے ہی گزرے ہوئے کیوں نہ ہوں۔سکول آئے نہ آئے لیکن اس کو سکول سے خارج نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے انرولمنٹ کے اوپر اثر پڑتا ہے۔لیکن بہادر پرنسپل ان چیزوں کی پروا نہیں کرتے جو آج کل اس طرح کے بہت کم لوگ ہیں۔۔۔
اس ماحول میں رہتے ہوئے سزا جزا نہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچے معاشرے میں اپنا مستقبل نہیں بنا پاتے اور پھر سارا ملبہ استاد پر ڈال دیا جاتا ہے ۔لیکن میں تو کہتا ھوں کہ اس کی زمہ دار صرف استاد اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں ہے بلکہ سب سے بڑی کمزوری ان کے اپنے والدین کی ھے جو اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام ہوتے ہیں اور ان کو آج کل کے معاشرے کے غلط ٹرینڈ، خواہشات اور شوق سے نہیں بچا پاتے اور انہیں کھلی رسی دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اندر اساتذہ و والدین کا ڈر ختم ہو جاتا ہے اور وہ علم اور مستقبل حاصل کرنے کی بجائے غلط راستے کی طرف چل پڑتے ہیں۔

First the sentence was abolished and now you can’t just scold the child, then who is crazy for others, who will risk his job and honour, and the policy has been abolished to ensure that no child in government institutions fails the exam. No matter how much they have passed. School may or may not come but they cannot be expelled from school because it affects their enrolment. But brave principals do not care about things that are like this nowadays. There are very few people … Living in this environment, due to lack of punishment, most of the children are not able to make their future in the society and then all the rubbish is thrown on the teacher. But I would say that it is not only the responsibility of the teacher and the education department. Rather the biggest weakness is their own parents who fail to train their children and cannot save them from the wrong trends, desires and hobbies of today’s society and give them an open rope due to which The fear of teachers and parents disappears inside them and they go astray instead of acquiring knowledge and future.


میں تو اس بات پر حیران ھوں کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر حکومت اور اساتذہ کے خلاف آواز بلند کیوں نہیں کرتے۔ہمیں اس بات پر غور وفکر کرنی چاہیے کہ ایک پرائیویٹ ٹیچر جو زیادہ سے زیادہ 10 ہزار سے لے کر 50 ہزار تنخواہ لیتا ہے اس کا سٹوڈنٹ بورڈ کا ٹاپر ھوتا ھے اور ایک سرکاری ٹیچر جو کم از کم 60 سے 70 ہزار تنخواہ لیتا ھے اس کا سٹوڈنٹ پرائیویٹ ٹیچر کے سٹوڈنٹ کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتا حالانکہ ان کے اپنے بچے بھی پرائیویٹ اداروں میں پڑھ رھے ہیں اور ہم ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا رہے اسی لیے کیونکہ اس میں ھم خود ملوس ہیں، خود چور ھیں اور ھمیں اپنی نئی نسل کے مستقبل کی کوئی پروا نہیں۔۔۔

I wonder why we don’t speak out against the government and teachers for the sake of our children’s future. His student is a topper of the board and a government teacher who earns at least 60 to 70 thousand rupees has no status compared to a student of a private teacher even though his own children are studying in private institutions. And we are not raising any voice against them because we are involved in it, we are thieves ourselves and we do not care about the future of our new generation.

بہرحال اس ماحول سے جو سرکاری بچہ امتحان میں آئے گا تو نقل کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہوتا اور سرکاری سکولز کے سنٹرز پر استاد صاحبان بہت مہربانیاں بھی دکھاتے ہیں کہ یہ ہمارے اپنے بچے ہیں جو کہ نالائق ہیں تو انکے ساتھ گزارہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہمارا اپنا علاقہ ہے ۔۔۔
میرا خیال ہے کہ خدا کی قسم! اگر امتحان میں 100 فیصد سختی کی جائے تو بچہ ،استاد اور والدین تینوں سیدھے ہو جائیں گے۔۔۔
لیکن یہ کرے گا کون۔۔۔۔۔

However, in this environment, the government child who comes to the exam has no option but to cheat and the teachers at the government school centers also show kindness that these are our own children who are incompetent, so we should live with them because This is our own area …
I swear to God! If the test is 100% strict then the child, teacher and parents will all be straight.
But who will do it?


اب آتے ہیں پیپرز کی طرف۔۔۔۔
آج کل کے بچے اتنے بہادر اور بے خوف ہو چکے ہیں کہ پیپرز کی تیاری پاکٹ خریدنے،گائیڈ یا کتاب کے ورق پھاڑ کر جیب میں ڈالنے کو سمجھتے ہیں اور ایک نے تو اسکو “ایگزام شاپنگ” کا لقب بھی دے ڈالا اور باقاعدہ فیسبک ریلز،سٹوری اور واٹس اییپ پر بڑی بہادری اور شجاعت کے ساتھ شئیر کیا جاتا یے اور اس دن تو ویڈیوز دیکھیں جس میں سٹوڈنٹس کمرہ امتحان میں پیپر کے دوران فیسبک ریلز کی وڈیو بنا رہا تھا جس میں اس نے وکٹوری کا نشان بھی بنایا ہوا تھا۔۔۔۔۔اور آج کل تو پیپرز آدھا گھنٹہ پہلے سارے بچوں کو واٹس ایپ پر مل جاتے ہیں تو انہوں نے امتحان کو سرے سیرئیس لینا ہی چھوڑ دیا۔
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ھماری نوجوان نسل کا مستقبل کیسا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ ہمارے حالات پر رحم کرے
اگر میری باتیں ناگوار گزری ہوں تو ان کے لیے میں معافی چاہتا ہوں۔۔۔

Now coming to the papers …
Today’s children have become so brave and fearless that they understand how to prepare a paper, buy a pocket, tear the pages of a guide or a book and put it in their pocket, and one even called it “exam shopping” and regular Facebook releases. , Story and WhatsApp are shared with great bravery and courage and watch the videos that day in which the student was making a video of Facebook releases during the exam in the exam room in which he also made a victory sign. … and nowadays, half an hour before the papers are available to all the children on the WhatsApp, they have stopped taking the exam.

Now I ask you what the future holds for our young generation.
May God have mercy on our situation
I apologize for any inconvenience this may have caused you.

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: