How did a Hindu become a Muslim?

By | July 3, 2022

ایک ہندو کیسے مسلمان ہوا؟

ا 1899میں لاہور کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوشحال ہندو خاندان میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام کنہیا لال رکھا گیا۔ یہ ”گابا“ خاندان میں پیدا ہوا تھا اس لئے اس کا پورا نام کنہیا لال گابا تھا جسے مخفف الفاظ میں کے ایل گابا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کے ایل گابا کے والد ہری کرشن لال گابا پنجاب کی برٹش راج کی حکومت کا وزیر تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھیجا ،نوجوان کے ایل گابا بیرسٹری کی سند لیکر واپس آیا۔ 34 سال کی عمر میں کے ایل گابا کی زندگی میں ایک انقلابی موڑ آیا اس نے اپنے مطالعہ کے ذوق و شوق کے تحت آقائے دو جہاں صلے اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ شروع کیا اور جوں جوں وہ سیرت کے باب پڑھتا جاتا تھا اس کے دل کے بند تالے کھلتے جاتے تھے بلآخر وہ غلامی رسول میں آگیا

In 1899, a boy named Kanhiya Lal was born to a highly educated and prosperous Hindu family in Lahore. He was born into the “Gaba” family, so his full name was Kanhiya Lal Gaba, abbreviated to KL Gaba. KL Gaba’s father Hari Krishna Lal Gaba was a minister in the British Raj government in Punjab. He sent his son to England for higher education, returning with a certificate from the young KL Gabba barrister. At the age of 34, KL Gabba took a revolutionary turn in his life. The locked locks of his heart used to open. Eventually he became a slave of the Prophet

اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کے اعلان سے معاشرہ میں ایک ارتعاش پیدا ہوا بالخصوص ہندو کمیونٹی اور اس کے اپنے گھرانے پر تو ایک قیامت گزر گئی۔ متعصب ہندؤں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا، اس نے زہر میں بجھے ہوئے تمام سوالوں کا جواب دینے کے لئے اور اپنے مسلمان ہونے کی وجہ بیان کرنے اور اپنے آقا و مولا سے اپنی قلبی عقیدت و محبت ظاہر کرنے کے لئے انگریزی میں ایک سیرت طیبہ کے موضوع پر ایک شاہکار کتاب لکھی ”پیغمبر صحرا “ اس کتاب کے شائع ہوتے ہی اس کے خلاف سازشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کے ایل گابا جو اب بھی کے ایل گابا ہی تھا کیونکہ اس نے اپنا نام خالد لطیف گابا رکھا تھا ایک سازش کے تحت ایک غلط مقدمے میں پھنسا دیا گیا اور اسے جیل ہوگئی۔

And declared himself a Muslim. His announcement created a stir in the society, especially in the Hindu community and his own family. The fanatical Hindus created a storm of insults, he wrote a biography in English to answer all the poisoned questions and to explain the reason for being a Muslim and to show his heartfelt devotion and love to his lord and master. As soon as this book was published, a new series of conspiracies against him began. KL Gaba, who was still KL Gaba because he named himself Khalid Latif Gaba, was implicated in a conspiracy and imprisoned.

لاہور ہائیکورٹ کے جج نے اس کی ضمانت کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی رقم تجویز کی یہ اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی، یہ آج کے کئی کروڑ روپے کے برابربنتی ہے مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ وہ یہ رقم ادا کرتے مسلمان اخبارات ”زمیندار“ اور “احسان” نے مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی لیکن رقم اکھٹی نہ ہوسکی اور کے ایل گابا کو کئی ہفتے جیل میں رہنا پڑا۔

The judge of Lahore High Court proposed a sum of Rs. 1.5 lakh for his bail. It was a huge amount at that time. It is equivalent to several crores of rupees today. “Zamindar” and “Ehsan” appealed to Muslims for donations but the money could not be collected and KL Gabba had to stay in jail for several weeks.


اس دوران ایک رات سیالکوٹ کا ایک مسلمان تاجر حاجی سردار علی سویا ہوا تھا کہ اس کی قسمت جاگ اٹھی، آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ کے ایل گابا کی ضمانت کیلئے رقم مہیا کرو اور اسے بتاؤ کہ اس نے میرے متعلق جو کتاب لکھی ہے مجھے پسند آئی۔ چوہدری سردار علی نے اپنی جائیداد رہن رکھ کر رقم کا انتظام کیا اور لاہور پہنچ گیا۔ جیل پہنچ کر اس نے کے ایل گابا کو جب یہ بتایا کہ وہ اس کی ضمانت کا انتظام کرانے آیا ہے تو اس نے پوچھا تم مجھے کیسے جانتے ہو؟ سیالکوٹ کے اس تاجر نے بتایا کہ میں تو تمہیں نہیں جانتا لیکن آقا علیہ السلام تمہیں اچھی طرح جانتے ہیں اور تمہاری کتاب کو پسند بھی فرماتے ہیں۔

Meanwhile, Haji Sardar Ali, a Muslim trader from Sialkot, was asleep one night when he woke up. Tell me I liked the book he wrote about me. Chaudhry Sardar Ali managed the money by mortgaging his property and reached Lahore. Arriving at the jail, he told KL Gabba that he had come to arrange his bail, and he asked, “How do you know me?” The Sialkot merchant said, “I do not know you, but I know you well and I like your book.”

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت میں یہاں آیا ہوں اور تمہاری ضمانت کا انتظام کرا رہا ہوں ، خالد لطیف گابا کا ایمان اور مستحکم ہوگیا اور احساس تشکر سے اس کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔
عدالت میں کمشنر مسٹر چندر نے ملک سردار کو کئی بار ڈرانے کی کوشش کی کہ اگر کے ایل گابا ضمانت کروا کے بھاگ گیا تو تمہاری ساری جائیداد ضبط ہو جائے گی لیکن ملک سردار علی نے جواب دیا کہ اگر مجھے پھانسی بھی ہو جائے تو میں تیار ہوں۔
اور اس جدو جہد کے نتیجے میں کئی دن بعد خال لطیف گابا کو جیل سے رہائی ملی۔ “

I have come here by the order of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and I am arranging your bail. Khalid Latif Gaba’s faith became stronger and his eyes filled with tears of joy.
In court, Commissioner Chandra repeatedly tried to intimidate Malik Sardar that if KL Gabba ran away on bail, all your property would be confiscated, but Malik Sardar Ali replied that even if I was hanged, I would be ready. Am ۔۔۔۔ And as a result of this struggle, Khal Latif Gaba was released from prison several days later. “

( اسلامی حکایات _سید محمد الیاس کاظمی صفحہ 33)

Leave a Reply

Your email address will not be published.