Current Situation Of Pakistan

By | June 29, 2022

ملک خداداد ک موجودہ صورتحال۔
وطنِ عزیز میں سرکاری کاموں کی کہانی بھائی محمد سلیم کی زبانی

Current situation of Khudadad.
The story of government work in the beloved homeland narrated by Bhai Muhammad Saleem

گھڑے کی کہانی ۔۔۔

The Story of Matka …

کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

It is said that a king passed through an area of ​​his kingdom where people drank water directly from the canal. The king ordered that if a pitcher be filled here for the convenience of the people, it would be better and every small and big person would be able to drink water with ease. Saying this, the king proceeded on the rest of his journey.

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔

When a pitcher was bought on the royal order and placed on the bank of the canal, an official suggested that the pitcher be purchased from the public and installed here on the royal order. It needs to be guarded and an orange sent on guard.

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔

After receiving the order to deploy the orange, the abomination also came to light that it is necessary to have a mashki to fill the pitcher. And not just one mosquito or one orange can be bound seven days a week, it would be better to hire seven oranges and seven oranges so that this work can continue uninterrupted.

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔

Another hard-working official opined that carrying a jug full of water from the canal is not the job of a mascot or an orange. For this laborious task, seven carriers should also be kept, who in turn carefully lift the filled pitcher daily and keep it closed with a good lid. ۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔

Another far-sighted companion suggested that in order to run the work in an orderly manner with so many people, it would be necessary to have a secretary accountant to run the accounting and salary system of all these personnel, to set up an accounting body, to appoint an accountant.

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

Another insightful official suggested that this could only be ensured if everything was going well. The department will have to be set up.

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

Another suggestion came that all this is going well, but if there is a fight or an abuse between the employees, then who will settle them and reconcile them? In order to continue the work uninterrupted, in my opinion, a legal affairs department should be set up to investigate violators and dissenters.

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

After the deliberations of all these departments, a gentleman suggested that a head should be appointed for all these arrangements. A director has also been appointed.

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے “وزارت انتظامی امور برائے گھڑا ” کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

A year later, as is customary, the king passed by this place during a visit to his subjects, and he saw that a magnificent building had been erected on the bank of the canal, covering an area of ​​several canals, with the lights on. The majesty of dazzles the eyes. The board of the Ministry of Administrative Affairs is marked on the front of the building.

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات “پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا” لکھا ہوا تھا۔

When the king entered with his companions, he found a separate world. The building housed several rooms, meeting rooms and offices. In a large office, behind the magnificent wooden table in the armchair, sat a distinguished man with gray hair, with his title on the plaque, “Professor Dr. Flann bin Flann, the winner of two wars “It was written.

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

Surprised, the king asked his minister the reason for the building, as well as the strange department, the name of which he had never heard of in his life.

بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

The king’s minister replied: Your Excellency, all this has happened at your behest, which you ordered last year to install a pitcher here for the welfare and convenience of the people.

بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے

The king went out even more astonished to see the jug which he had ordered to be placed. The king saw that the pitcher was not only empty and broken, but also that a dead bird was lying inside. Countless people are resting and sleeping on the sides of the pitcher and there is a big board in front of it

“گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا” منقول

“Submit your donations for pitcher repair and maintenance. By Ministry of Administrative Affairs”

Leave a Reply

Your email address will not be published.